ہم خموشی کو ہاں سمجھتے ہیں

0


ہم خموشی کو ہاں سمجھتے ہیں 
سب ہمیں خوش گماں سمجھتے ہیں 

خوش گمانی میں طاق ہیں ہم تو 
آپ کیوں بد گماں سمجھتے ہیں 

گو حقیقت میں بات کچھ بھی نہیں 
یہ مگر سب کہاں سمجھتے ہیں 

آئینہ ہم تو دیکھتے ہی نہیں 
خود کو اب تک جواں سمجھتے ہیں 

پیار سے بات کر کے دیکھ ذرا 
ہم یہی اک زباں سمجھتے ہیں 

آپ شعلہ بیاں سہی لیکن 
کیا ہمیں بے زباں سمجھتے ہیں 

ان سے کرتے ہیں دل کی باتیں ہم 
ہم انہیں رازداں سمجھتے ہیں 

ہم نے صحرا کی خاک چھانی ہے 
ریت کو کہکشاں سمجھتے ہیں 

وصل کی بات ہم نہیں سمجھے 
ہجر کی داستاں سمجھتے ہیں 

ہم کو سعدی تو نا سمجھ نہ سمجھ 
ہم بھی سود و زیاں سمجھتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں