وحشتیں ہیں چار سو رقصاں ترے جانے کے بعد

0



وحشتیں ہیں چار سو رقصاں ترے جانے کے بعد
سُونی سُونی ہیں بھری گلیاں ترے جانے کے بعد

کیا بتاؤں جاں کو میری کیسے کیسے روگ ہیں
کس قدر ہے زندگی ویراں ترے جانے کے بعد

چاندنی پھیکی پڑی ہے چاند بھی ہے دم بخود
تھم گئی ہے گردشِ دوراں ترے جانے کے بعد

ہم نے مانا دن غمِ دوراں میں کٹ ہی جائے گا
کس طرح بیتے شبِ ہجراں ترے جانے کے بعد

تھا یقیں مجھ کو تمھارے لوٹ آنے کا مگر
پھر بھی شبنم تھی سرِ مژگاں ترے جانے کے بعد

اس زمانے کے بھنور میں بہہ گیا بے دست و پا
رہ گیا سعدی تہی داماں ترے جانے کے بعد

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں