لگے تھے داغ جو دامن پہ ان کو دھو دیتے
سکونِ دل کی طلب تھی؟ ذرا سا رو دیتے
بھنور سے بچ کے اگر پار بھی اتر تا تو
"کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے"
میسر آتی ہمیں فرصتِ خیال اگر
تمھارے حسن کواشعار میں سمو دیتے
یہ انتہا کا تغافل یہ بے رخی کیوں ہے
نہ دیتے گل جو ہمیں خار ہی چبھو دیتے
انا پرست بلا کے تھے ہم مگر سعدی
انا پرست ہی رہتے تو اس کو کھو دیتے


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں