طرحی غزل : لگے تھے داغ جو دامن پہ ان کو دھو دیتے

0



لگے تھے داغ جو دامن پہ ان کو دھو دیتے
سکونِ دل کی طلب تھی؟ ذرا سا رو دیتے

بھنور سے بچ کے اگر پار بھی اتر تا تو
"کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے"

میسر آتی ہمیں فرصتِ خیال اگر
تمھارے حسن کواشعار میں سمو دیتے

یہ انتہا کا تغافل یہ بے رخی کیوں ہے
نہ دیتے گل جو ہمیں خار ہی چبھو دیتے

انا پرست بلا کے تھے ہم مگر سعدی
انا پرست ہی رہتے تو اس کو کھو دیتے

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں