اب اہلِ درد یہ جینے کا اہتمام کریں

0


"اب اہلِ درد یہ جینے کا اہتمام کریں"
جفا کوئی بھی کرے ہم وفا کو عام کریں

کسے دوام ہوا ہے جہانِ فانی میں
ہمیں خبر ہے تو پھر کیوں خیالِ خام کریں

وہ ایک شخص جو ٹھکرا گیا سبھی ناطے
وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کا احترام کریں

عجیب حال ہے وحشت کا دل یہ کرتا ہے
کسی سے بات کریں نا کوئی کلام کریں

کسی کی سوچ پہ پہرے نہیں بٹھا سکتے
ہزار حیلے کریں لاکھ روک تھام کریں

کریدیں راکھ کہ اب بھی شرر ہیں پوشیدہ
اٹھو کہ پھر سے زمانے میں اپنا نام کریں

فضائے خوف جو طاری ہے آج دنیا پر
اٹھاؤ امن کے جھنڈے اسے تمام کریں

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں