بہاروں کے موسم کو کیا ہو گیا ہے

0


بہاروں کے موسم کو کیا ہو گیا ہے
خزاں کا چلن عام سا ہو گیا ہے

کہیں پر زمیں خون میں تربتر ہے
کہیں آسماں سرخ سا ہو گیا ہے

ہر اک سمت ہے ظلمتوں کا بسیرا
اُجالا تو جیسے خفا ہو گیا ہے

سُلگتی ہوئی نفرتوں سے بھرے دل
محبت کا جذبہ ہوا ہو گیا ہے

مفادات اور مصلحت ، خود پرستی
فسوں کیسا جگ میں بپا ہو گیا ہے

چلو سو رہیں اوڑھ کر ہم زمیں کو 
کہ دنیا میں جینا سزا ہو گیا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں