فلک پہ چاند جو روشن ہے یوں سحاب کے ساتھ

0



فلک پہ چاند جو روشن ہے یوں سحاب کے ساتھ
یہ استعارہ ترے رخ کا ہے نقاب کے ساتھ

فصیلِ جاں کے در و بام جو منور ہیں
کسی کی یاد چمکتی ہے آب و تاب کے ساتھ

مرے خلوص کی اس نے ذرا بھی قدر نہ کی
ملا تھا آج بھی لیکن کچھ اجتناب کے ساتھ

دلِ فگار کے جتنے نہاں تھے راز سبھی
وہ آشکار ہوئے آنکھ کے چناب کے ساتھ

خیالِ یار رہا ہجرتوں کے موسم میں
تمام زیست گزاری ہے اک سراب کے ساتھ

نہ روک آج مجھے بے حساب پینے دے
تمام عمر ہی پی ہے بہت حساب کے ساتھ

نہیں قبول مجھے میرِ کارواں ایسا
جو آشنا نہ کرے مجھ کو انقلاب کے ساتھ

تمہاری یاد میں سعدی نے اشک بوئے ہیں
سو انتظار میں گزرے گی اب عذاب کے ساتھ​

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں