تری فرقت کا موسم اور تری یادوں کی رعنائی

0


تری فرقت کا موسم اور تری یادوں کی رعنائی
اسی سے زندگی کا کچھ ہمیں احساس ہے باقی

دلوں کے ٹوٹنے کی گر کوئی آواز ہوتی تو
عجب ہوتا اگر کوئی سماعت تاب لے آتی

بنا ہے خاک سے لیکن نہ ہو گر خاکساری تو
برابر ہے ترا ہونا نہ ہونا پیکرِخاکی

زباں پہ لا کے دل کی بات میں زیرِ عتاب آیا
اگر چپ چاپ سہہ لیتا مری ہوتی نہ رسوائی

بہت واضح نظر آتے ہیں چہرے اس میں لوگوں کے
بنا لیتا ہوں آڑے وقت کو میں آئینہ سعدی

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں