عشق میں تخت و تاج کیا کرتے

0




عشق میں تخت و تاج کیا کرتے
اپنے دل کا علاج کیا کرتے

جب لکھی تھی شکست قسمت میں
جو نہ دیتے خراج کیا کرتے

میرے اس چاک پیرہن کے لیے
کچھ بٹن چند کاج کیا کرتے

گر بغاوت پہ ہم اتر آتے
پھر یہ رسم و رواج کیا کرتے

اس کا برہم مزاج کیا کہنے
ہم شگفتہ مزاج کیا کرتے

اس کی بستی میں بے وفائی کا
چل پڑا تھا رواج کیا کرتے

حسبِ معمول درمیان میں تھا
پھر یہ ظالم سماج کیا کرتے

کل ملاقات اس سے طے تھی مگر
یہ بتاؤ کہ آج کیا کرتے

کچھ نہ بولے کوئی گلہ نہ کیا
اس کی رکھنی تھی لاج کیا کرتے

اتنی مہلت نہ مل سکی سعدی
ہم ترے دل پہ راج کیا کرتے

ایک مطلع اور دو اشعار

0





سہانے خواب سجا لوں اگر اجازت ہو
یہ دل میں تم سے لگا لوں اگر اجازت ہو

طویل ہجر کی شب ہے بہت اندھیرا ہے
میں اک چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو

شبِ وصال میسر ہوئی تو سوچوں گا
’ شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو ‘

بہاروں کے موسم کو کیا ہو گیا ہے

0


بہاروں کے موسم کو کیا ہو گیا ہے
خزاں کا چلن عام سا ہو گیا ہے

کہیں پر زمیں خون میں تربتر ہے
کہیں آسماں سرخ سا ہو گیا ہے

ہر اک سمت ہے ظلمتوں کا بسیرا
اُجالا تو جیسے خفا ہو گیا ہے

سُلگتی ہوئی نفرتوں سے بھرے دل
محبت کا جذبہ ہوا ہو گیا ہے

مفادات اور مصلحت ، خود پرستی
فسوں کیسا جگ میں بپا ہو گیا ہے

چلو سو رہیں اوڑھ کر ہم زمیں کو 
کہ دنیا میں جینا سزا ہو گیا ہے

اب اہلِ درد یہ جینے کا اہتمام کریں

0


"اب اہلِ درد یہ جینے کا اہتمام کریں"
جفا کوئی بھی کرے ہم وفا کو عام کریں

کسے دوام ہوا ہے جہانِ فانی میں
ہمیں خبر ہے تو پھر کیوں خیالِ خام کریں

وہ ایک شخص جو ٹھکرا گیا سبھی ناطے
وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کا احترام کریں

عجیب حال ہے وحشت کا دل یہ کرتا ہے
کسی سے بات کریں نا کوئی کلام کریں

کسی کی سوچ پہ پہرے نہیں بٹھا سکتے
ہزار حیلے کریں لاکھ روک تھام کریں

کریدیں راکھ کہ اب بھی شرر ہیں پوشیدہ
اٹھو کہ پھر سے زمانے میں اپنا نام کریں

فضائے خوف جو طاری ہے آج دنیا پر
اٹھاؤ امن کے جھنڈے اسے تمام کریں

تری فرقت کا موسم اور تری یادوں کی رعنائی

0


تری فرقت کا موسم اور تری یادوں کی رعنائی
اسی سے زندگی کا کچھ ہمیں احساس ہے باقی

دلوں کے ٹوٹنے کی گر کوئی آواز ہوتی تو
عجب ہوتا اگر کوئی سماعت تاب لے آتی

بنا ہے خاک سے لیکن نہ ہو گر خاکساری تو
برابر ہے ترا ہونا نہ ہونا پیکرِخاکی

زباں پہ لا کے دل کی بات میں زیرِ عتاب آیا
اگر چپ چاپ سہہ لیتا مری ہوتی نہ رسوائی

بہت واضح نظر آتے ہیں چہرے اس میں لوگوں کے
بنا لیتا ہوں آڑے وقت کو میں آئینہ سعدی

ہم خموشی کو ہاں سمجھتے ہیں

0


ہم خموشی کو ہاں سمجھتے ہیں 
سب ہمیں خوش گماں سمجھتے ہیں 

خوش گمانی میں طاق ہیں ہم تو 
آپ کیوں بد گماں سمجھتے ہیں 

گو حقیقت میں بات کچھ بھی نہیں 
یہ مگر سب کہاں سمجھتے ہیں 

آئینہ ہم تو دیکھتے ہی نہیں 
خود کو اب تک جواں سمجھتے ہیں 

پیار سے بات کر کے دیکھ ذرا 
ہم یہی اک زباں سمجھتے ہیں 

آپ شعلہ بیاں سہی لیکن 
کیا ہمیں بے زباں سمجھتے ہیں 

ان سے کرتے ہیں دل کی باتیں ہم 
ہم انہیں رازداں سمجھتے ہیں 

ہم نے صحرا کی خاک چھانی ہے 
ریت کو کہکشاں سمجھتے ہیں 

وصل کی بات ہم نہیں سمجھے 
ہجر کی داستاں سمجھتے ہیں 

ہم کو سعدی تو نا سمجھ نہ سمجھ 
ہم بھی سود و زیاں سمجھتے ہیں

آئے قرار دل کو نہیں احتمال تک

0



آئے قرار دل کو نہیں احتمال تک 
پوچھا نہیں ہے اس نے مرا حال چال تک  

اس طور بے خبر وہ مرے حال سے ہوا
آتا نہیں ہے اس کو مرا اب خیال تک 

یوں دل میں جا بجا وہ سراپا بکھر گیا
ازبر ہوئے ہیں اس کے مجھے خدوخال تک 

خطرات کوئے یار میں ہر اک قدم پہ ہیں
اس میں تو رہ گئے ہیں بڑے باکمال تک 

ان دوستوں کے وار میں کیسے سہوں بھلا
اس رزم میں نہیں ہے مرے پاس ڈھال تک 

چاہت سے عشق تک کی منازل عجیب ہیں
یہ اک سفر زوال سے ہے لا زوال تک 

سعدی یہ دل ہوا ہے ترا چُور اس طرح
ملتی نہیں ہے جس کی جہاں میں مثال تک​ 

ہر ایک بات میں تیرا ہی تذکرہ نکلا

0
ہر ایک بات میں تیرا ہی تذکرہ نکلا
ترا خیال مرے دل میں جا بجا نکلا

کوئی فصیل بھی تو درمیاں نہ تھی اپنے
مگر وہ فاصلہ صدیوں کا فاصلہ نکلا

مرے تمام حوالے بھی اجنبی نکلے
مرے مزاج کا اک تو ہی آشنا نکلا

تمام عمر گزاری ہے رہ نوردی میں
جو راستہ بھی ملا ایک دائرہ نکلا

ہوئی نہ جیت کسی کی نہ کوئی مات ہوئی
جنون کا وہ خرد سے معاملہ نکلا

عجیب لوگ تھے سعدی خدا کی بستی کے
"کوئی خدا کوئی ہمسایۂِ خدا نکلا"

فلک پہ چاند جو روشن ہے یوں سحاب کے ساتھ

0



فلک پہ چاند جو روشن ہے یوں سحاب کے ساتھ
یہ استعارہ ترے رخ کا ہے نقاب کے ساتھ

فصیلِ جاں کے در و بام جو منور ہیں
کسی کی یاد چمکتی ہے آب و تاب کے ساتھ

مرے خلوص کی اس نے ذرا بھی قدر نہ کی
ملا تھا آج بھی لیکن کچھ اجتناب کے ساتھ

دلِ فگار کے جتنے نہاں تھے راز سبھی
وہ آشکار ہوئے آنکھ کے چناب کے ساتھ

خیالِ یار رہا ہجرتوں کے موسم میں
تمام زیست گزاری ہے اک سراب کے ساتھ

نہ روک آج مجھے بے حساب پینے دے
تمام عمر ہی پی ہے بہت حساب کے ساتھ

نہیں قبول مجھے میرِ کارواں ایسا
جو آشنا نہ کرے مجھ کو انقلاب کے ساتھ

تمہاری یاد میں سعدی نے اشک بوئے ہیں
سو انتظار میں گزرے گی اب عذاب کے ساتھ​

وحشتیں ہیں چار سو رقصاں ترے جانے کے بعد

0



وحشتیں ہیں چار سو رقصاں ترے جانے کے بعد
سُونی سُونی ہیں بھری گلیاں ترے جانے کے بعد

کیا بتاؤں جاں کو میری کیسے کیسے روگ ہیں
کس قدر ہے زندگی ویراں ترے جانے کے بعد

چاندنی پھیکی پڑی ہے چاند بھی ہے دم بخود
تھم گئی ہے گردشِ دوراں ترے جانے کے بعد

ہم نے مانا دن غمِ دوراں میں کٹ ہی جائے گا
کس طرح بیتے شبِ ہجراں ترے جانے کے بعد

تھا یقیں مجھ کو تمھارے لوٹ آنے کا مگر
پھر بھی شبنم تھی سرِ مژگاں ترے جانے کے بعد

اس زمانے کے بھنور میں بہہ گیا بے دست و پا
رہ گیا سعدی تہی داماں ترے جانے کے بعد

دلِ صد چاک میں کیا رہ گیا ہے

0


 دلِ صد چاک میں کیا رہ گیا ہے
 لہو بہہ بہہ کے آدھا رہ گیا ہے 
 جہاں بانی رہا تھا جس کا شیوہ
 وہ بالکل بے سہارا رہ گیا ہے 
 بنا بیٹھے ہیں کتنے بت جہاں میں 
 جو سچا ہے وہ تنہا رہ گیا ہے 
 عداوت کے یہ کس نے بیج بوئے 
 ہر اک انساں اکیلا رہ گیا ہے 
 مجھے سعدی تھی دریا کی بشارت 
 مگر آنکھوں میں صحرا رہ گیا ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں