آئے قرار دل کو نہیں احتمال تک

0



آئے قرار دل کو نہیں احتمال تک 
پوچھا نہیں ہے اس نے مرا حال چال تک  

اس طور بے خبر وہ مرے حال سے ہوا
آتا نہیں ہے اس کو مرا اب خیال تک 

یوں دل میں جا بجا وہ سراپا بکھر گیا
ازبر ہوئے ہیں اس کے مجھے خدوخال تک 

خطرات کوئے یار میں ہر اک قدم پہ ہیں
اس میں تو رہ گئے ہیں بڑے باکمال تک 

ان دوستوں کے وار میں کیسے سہوں بھلا
اس رزم میں نہیں ہے مرے پاس ڈھال تک 

چاہت سے عشق تک کی منازل عجیب ہیں
یہ اک سفر زوال سے ہے لا زوال تک 

سعدی یہ دل ہوا ہے ترا چُور اس طرح
ملتی نہیں ہے جس کی جہاں میں مثال تک​ 

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں