غزل : ترے وہ عہد و پیماں اور پھر ان سے مکر جانا

1




تمھارے عہد و پیماں اور پھر ان سے مکر جانا
سبھی لفاظیاں تھیں ہم نے پھر بھی معتبر جانا

جہاں میں کب کوئی یونہی کسی کے ساتھ چلتا ہے
چلا جو دو قدم بھی ساتھ ہم نے ہم سفر جانا

تمہاری سادہ لوحی سے مجھے بس یہ شکایت ہے
ملے جو راہ زن ان کو بھی تم نے راہبر جانا

یہ ویرانی، ادھورے خواب ، ملبہ آرزوؤں کا
دلِ برباد کو اجڑا ہوا ہم نے کھنڈر جانا

سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
اجل کی لو پہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا

1 تبصرہ:

M. Saeed Ahmad (Saeed Saadi) کہا...
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

سعدی آن لائن بلاگ پر خوش آمدید

میرا مکمل نام شیخ محمد سعید احمد ہے جبکہ تخلص سعیدسعدی ہے۔ 5 نومبر 1975، سکھر، سندھ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم سکھر میں حاصل کی بعد ازاں خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تعلیم حاصل کی اور 1996 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی اور 1999 میں الخیر یونیورسٹی (آزاد جموں کشمیر )سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔ 2001 سے بحرین میں آئی ٹی پراجیکٹ مینیجر اور کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مقیم ہوں، شاعری کا آغاز 1995، کالج کے زمانے سے کیا۔.

سماجی

© 2023 جملہ حقوق بحق | سعدی آن لائن | محفوظ ہیں